پولیس قاتلوں کی جانچ کرنے کے لئے تین ٹیمیں تشکیل دی ہے
چنتامنی:25 /اگست(محمد اسلم؍ایس او نیوز)چنتامنی تعلقہ چنسندرادارالعلوم محمودیہ مدرسہ کے طالب علم شہنشاہ نگر کولار کا ساکن عبدالنواز بن نوشاد (12)کا پچھلے تین دن قبل گلاکاٹ کر بہیمانے طریقے سے قتل کیا گیا تھا۔اس کی جانچ کرنے کے لئے چکبالاپور ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس چائترا کے زیر نگرانی میں تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہے گذشتہ روز جانچ کررہی ایک ٹیم نے آسام کا ساکن حبیب الرحمن لشکر(22)کو گرفتار کرکہ پوچھ تاچھ کررہی ہے۔عبدالنواز کے کے بہیمانے طریقے کے قتل کی واردات کی خبر سارے آخباروں اور ٹی۔وی چنیلوں کی ذینت بنی ہوئی ہے زرائع سے ملی اطلاع کے مطابق 22اگست بروز پیر علی الصباح دارالعلوم محمودیہ مدرسہ کے بالکل بازو زیر تعمیر عمارت کے ایک ٹینک سے عبدالنواز کی نعش بر آمد ہوئی جیسے ہی نعش ملی تو مدرسہ کے مہتمم مولانا عثمان اللہ شاہ نظامی سیدھے اس کی اطلاع کرنے کے لئے چنتامنی رورل پولیس تھانہ پہنچ کر پولیس کو اطلاع دیا کہ ہمارے مدرسہ کا طالب علم عبدالنواز کو کسی نے بہیمانے طریقے سے قتل کرکہ ٹینک میں ڈال دیا ہے۔فوراََ پولیس دارالعلوم محمودیہ مدرسہ کے پاس پہنچ گئی ہے اور جانچ کی گئی تو پولیس کو زیر تعمیر عمارت میں ایک ڈرائیونگ لائسنس ملاجس وہ ڈرائیونگ لائسنس حبیب الرحمن لشکر(آسام)کا تھا فوراََ مقامی لوگ پہنچ کر پولیس کو بتایا کہ حبیب الرحمن یہاں کے ایک ہوٹل میں ملازم ہے وہ گذشتہ رات ہی سے فرار ہے جب پولیس ٹینک سے بچے کو نکالی تو بچے کا گلاکاٹا ہوا تھا۔پولیس وہاں جانچ کی تو خون کے خطرے مدرسہ اور بازو زیر تعمیر عمارت کے اندر اور باہر پڑے ہوئے تھیں پولیس نے شبہ ظاہر کی کہ بچے کو کسی نے بہیمانے طریقے سے قتل کیا ہے پھر پولیس اُس مدرسہ کی پکاتی دلشاد اور مدرسہ کے استاد محمد اسماعیل کو حراست میں لیکر پوچھ تاچھ کرر ہی ہے ۔وہاں کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ مدرسہ کے مہتمم پچھلے کئی برسوں سے عملیات کرتا تھا اُس نے عبدالنواز کو خرانے کے نام پر گلاکاٹ دیا ہے چند لوگوں نے پولیس کو یہ بھی بتایا ہے کہ مدرسہ کے مہتمم عثمان اللہ نظامی اور اُس مدرسہ کی پکاتی دلشاد سے ناجائز تعلقات تھیں لڑکا عبدالنواز عثمان اللہ اور پکاتی دلشاد موج مستی کرنے کے منظر کو دیکھ لینے کے سبب اُس کا قتل کیا ہوگا پولیس تمام کے بیانوں کو کافی سنجیدگی سے لے کر اپنی جانچ کررہی ہے۔چنتامنی رورل پولیس تھانہ کے سب انسپکٹر لیاقت اللہ نے آج آخباری نمائندوں سے بتایا کہ ہم لوگ مدرسہ کی چھان بین کرنے کے بعد ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ کسی نے بچے کو بہیمانے طریقے سے قتل کرنے بعد اُس کے جُبہ کو آگ میں جلا کر خاکستر کردیا ہے اور مدرسہ کے اندر خون کے خطرے بھی پڑے ہوئے تھیں اُس کی بھی جانچ کی جارہی ہے مدرسہ کے چند طلباء نے ہمیں بتایا ہے کہ مدرسہ کے مہتمم عثمان اللہ نے ہی چھری سے نواز کا گلاکاٹا ہے اور چند لوگ یہ بھی ہمیں بتارہے ہیں عثمان اللہ اور دلشاد سے ناجائز تعلقات تھیں ہم لوگ عثمان اللہ اور آسام کا ساکن حبیب الرحمن پکاتی دلشاد کو حراست میں لیکر پوچھ تاچھ کررہے ہیں عثمان اللہ نے اب تک اپنا جرم قبول نہیں کیا ہے ۔عنقریب پولیس عبدالنواز کا کیوں قتل کیا گیا اس کا پتہ لگا لے گی اب دیکھنا ہے کہ عثمان اللہ نے بچے کا قتل ناجائز تعلقات کے نتیجے سے کیا؟ یا خزانے کے لئے بچے کا قتل کیا؟ اس کی حقیقت بہت ہی جلد پولیس منظرے عام پر لائے گی۔